ابنا: کل بحرین کے دارالحکومت منامہ کی سڑکوں پر دسیوں ٹینک موجود تھے ۔ منامہ اور دوسرے بعض شہر فوجی چھانیوں میں بدل چکے تھے۔ اور دارالحکومت میں فائرنگ کی آواز گونجتی رہی ۔ اور یہ سب کچھ یہ حالت میں ہوا کہ جب یورپی ذرائع ابلاغ نے اس کو مکمل طور پر سینسر کیا۔
یہ بات صاف لفظوں میں کہی جاسکتی ہے کہ خطے میں اسلامی بیداری کی جو لہر چل رہی ہے اس میں بحرین کی حریت پسندی کی تحریک ہی سب سے زیادہ مظلوم واقع ہوئي ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے فوجی ایک سال سے آل خلیفہ کی شاہی حکومت کے کارندوں کے ساتھ مل کر اس ملک کے بے گناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک کسی بھی انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیم نے اس سلسلے میں کوئي سنجیدہ اقدام انجام نہیں دیا ہے۔
بحرین کے بارے میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ امریکہ عالمی اداروں میں اپنے اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف عالمی سطح پر آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی مذمت سے مانع ہوا ہے بلکہ وہ بحرینی عوام کی انقلابی تحریک کو کچلنے کے لۓ آل خلیفہ کی شاہی حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دنیا کے اکثر ذرائع ابلاغ امریکہ اور واشنگٹن کے حکام کے مفادات کے تحت کام کررہے ہیں۔ اس ساری صورتحال کے پیش نظر یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا عالمی اداروں کی خاموشی بحرینی عوام کی انقلابی تحریک کو متاثر کر سکے گی؟
اور کیا آل خلیفہ کی شاہی حکومت نے عوام کو کچلنے کی جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے وہ انقلابی تحریک کو جاری رکھنے کے عوامی عزم میں کوئي خلل پیدا کرسکے گی؟ بحرینی عوام نے کل اپنی انقلابی تحریک کو ایک سال کا عرصہ مکمل ہونے کے موقع پر اس بات پر تاکید کی کہ وہ ملک میں سیاسی ڈھانچے میں تبدیلی اور اصلاحات کا مقصد پورا ہونےتک اس ملک کے ظالم اور امتیازی سلوک سے کام لینے والے نظام کے خلاف اپنی انقلابی تحریک کو جاری رکھیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اس کا شیرازہ بکھرنے کو ہے ایسی صورتحال میں کیا یورپ کی جانب سے اس ناجائز حکومت کی حمایت اس کو سرنگونی سے بچا سکتی ہے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ حمایت اس حکومت کی سرنگونی میں تاخیر تو پیدا کرسکتی ہے لیکن اس ملک میں جاری انقلابی تحریک کو روک نہیں سکتی ہے۔
........
/169